25 اپریل 2015 - 10:19
سعودی عرب کے سواحل صیہونی طیاروں اور آبدوزوں کے میزبان

ایک فلسطینی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر جارحیت کے دوران مختلف جاسوسی ذرائع کی معلومات سے استفادہ کیا لیکن سب سے زیادہ بھروسہ صیہونی حکومت کی اطلاعات پر کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق باخبر سفارتکاروں نے بتایا ہے کہ آل سعود نے یمن پر جارحیت کے لئے صیہونی جاسوسی ذرائع کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس طرح اس جنگ نے ریاض اور تل ابیب کے اتحاد کو مزید واضح کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کی ایٹمی آبدوزیں سعودی عرب کے سواحل کے قریب پہرا دے ہی ہیں اور صیہونی جاسوس طیارے بھی اس دوران سعودی عرب کی سرحدوں کے قریب پرواز کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے مابین ایک خفیہ معاہدہ موجود ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سمندری اور فضائی سرحدیں صیہونیوں کے لئے کھلی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہیں وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد ایک اور آبدوز صیہونی حکومت کے حوالے کر دے گا۔ صیہونی حکومت نے جرمنی کو مجموعی طور پر چھے ڈولفن آبدوزوں کی خریداری کا آرڈر دے رکھا ہے-

.......

/169